HADITH.One

Urdu

Support
hadith book logo

HADITH.One

Urdu

System

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔
hadith book logo

Kanz al-Ummal

.

كنز العمال

31850

31839- فرج سقف بيتي وأنا بمكة فنزل جبريل ففرج صدري ثم غسله بماء زمزم ثم جاء بطست من ذهب ممتلئ حكمة وإيمانا فأفرغها في صدري ثم أطبقه، ثم أخذ بيدي فعرج بي إلى السماء الدنيا، فلما جئنا السماء الدنيا قال جبريل لخازن السماء الدنيا: افتح، قال: من هذا؟ قال: هذا جبريل قال هل معك أحد؟ قال: نعم، معي محمد، قال: فأرسل إليه؟ قال: نعم، فافتح فلما علونا السماء الدنيا فإذا رجل عن يمينه أسودة وعن يساره أسودة، فإذا نظر قبل يمينه ضحك وإذا نظر قبل شماله بكى، فقال: مرحبا بالنبي الصالح والابن الصالح: قلت يا جبريل من هذا؟ قال: هذا آدم وهذه الأسودة عن يمينه وعن شماله نسم بنيه، فأهل اليمين أهل الجنة، والأسودة التي عن شماله أهل النار، فإذا نظر قبل يمينه ضحك وإذا نظر قبل شماله بكى؛ ثم عرج بي جبريل حتى أتى السماء الثانية فقال لخازنها: افتح، فقال له خازنها مثل ما قال خازن السماء الدنيا ففتح، فلما مررت بادريس قال: مرحبا بالنبي الصالح والأخ الصالح! فقلت: من هذا: قال: هذا إدريس، ثم مررت بموسى فقال: مرحبا بالنبي الصالح والأخ الصالح! فقلت: من هذا؟ قال: هذا موسى، ثم مررت بعيسى فقال: مرحبا بالنبي الصالح والأخ الصالح، فقلت: من هذا؟ قال: هذا عيسى ابن مريم، ثم مررت بإبراهيم فقال: مرحبا بالنبي الصالح والابن الصالح! قلت: من هذا؟ قال: هذا إبراهيم؛ ثم عرج بي حتى ظهرت بمستوى أسمع فيه صريف الأقلام، ففرض الله عز وجل على أمتي خمسين صلاة فرجعت بذلك حتى مررت على موسى فقال موسى: ماذا فرض ربك على أمتك؟ قلت: فرض عليهم خمسين صلاة، قال لي موسى: فراجع ربك، فإن أمتك لا تطيق ذلك، فراجعت ربي فوضع شطرها، فرجعت إلى موسى فأخبرته فقال: راجع ربك، فإن أمتك لا تطيق ذلك، فراجعت ربي فقال: هن خمس وهي خمسون، لا يبدل القول لدي، فرجعت إلى موسى فقال: راجع ربك، فقلت: قد استحييت من ربي؛ ثم انطلق بي حتى انتهي بي إلى سدرة المنتهى فغشيها ألوان لا أدري ما هي، ثم أدخلت الجنة فإذا جنابذ اللؤلؤ وإذا ترابها المسك. "ق عن أبي ذر إلا قوله: ثم عرج بي حتى ظهرت بمستوى أسمع فيه صريف الأقلام، فإنه عن ابن عباس وأبي حبة البدري".
31842 ۔۔۔ ارشاد فرمایا کہ میرے گھر کی چھت کھولی گئی جب کہ میں مکہ میں تھا جبرائیل (علیہ السلام) نازل ہوئے پھر میرے سینہ کو چاک کیا گیا پھر اس کو زمزم کے پانی سے دھویا گیا پھر سونے کی ایک تھالی لائی گئی جو حکومت ایمان سے بھری ہوئی تھی اس کو میرے سینہ بھر میں بھرا گیا پھر اس کو بند کردیا گیا پھر میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے آسمان دنیا تک لے جایا گیا جب آسمان دنیا میں پہنچے توجبرائیل نے دربان سے کہا دروازہ کھولو تو دربان نے پوچگا کہ آپ کون فرمایا جبرائیل پوچھا آپ کے ساتھ کوئی ہے فرمایا ہاں میرے ساتھ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں پوچھا کیا ان کو بلوایا گیا ہے ؟ فرمایا ہاں ہمارے لیے دروازہ کھولا گیا جب ہم آسمان چڑھے تو ایک شخص سے ملاقات ہوئی اس کے دائیں طرف کچھ سیاہی تھی اور بائیں طرف بھی کچھ سیاہی جب دائیں طرف نظر کرتے تو ہنستے اور جب بائیں طرف نظر کرتے توروپڑتے انھوں نے کہا مرحبا صالح نبی اور صالح بیٹا میں نے جبرائیل سے پوچھا یہ کون بزرگ ہیں فرمایا یہ آدم (علیہ السلام) ہیں یہ دائیں بائیں ان کی اولاد ہے دائیں طرف والے جنتی ہیں اور بائیں طرف والے جہنمی جب دائیں طرف دیکھتے ہیں خوش ہو کرہنستے ہیں اور جب بائیں طرف دیکھتے ہیں پریشان ہو کرروتے ہیں پھر جبرائیل مجھے لے کر دوسرے آسمان پرچڑھ گئے اور دربان سے کہا کہ دروازہ کھولو وہاں ہی سوال و جواب ہواجو پہلے آسمان پر ہوا تھا دروازہ کھولا گیا جب میرا گذر اور یس (علیہ السلام) پر ہوا تو فرمایا مبارک ہوصالح نبی اور صالح بھائی کو میں نے پوچھا یہ کون بزرگ ہیں فرمایا کہ یہ اور یس (علیہ السلام) میں پھر میرا گذر موسیٰ (علیہ السلام) پر ہوا تو انھوں نے فرمایا مرحبا صالح نبی صالح بھائی میں نے پوچھا یہ کون فرمایا یہ موسیٰ (علیہ السلام) میں پھر میرا گذر عیسیٰ (علیہ السلام) پر ہوا تو فرمایا مرحباصالح نبی صالح بھائی میں نے پوچھا کون ؟ فرمایا عیسیٰ (علیہ السلام) میں بھر میرا گذر ابراہیم (علیہ السلام) پر ہوا، انھوں نے فرمایا مرحبا صالح نبی صالح بیٹا میں نے پوچھا یہ کون ؟ فرمایا کہ ابراہیم (علیہ السلام) ہیں پھر مجھے اور اوپر لے جایا گیا یہاں تک کہ ایک کشادہ میدان پر پہنچا جہاں قلم کے لکھنے کی آواز سنائی دے رہی تھی تو اللہ تعالیٰ نے میری امت پر پچاس نمازیں فرض فرمائی ان کو لے کر واپس ہوا تو راستہ میں موسیٰ (علیہ السلام) سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے پوچھا کہ تمہارے رب نے کیا فرض فرمایا تمہاری امت پر ؟ میں نے کہا ان پر پچاس نمازیں فرض فرمائیں ہیں تو مجھ سے موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اپنے رب کے پاس واپس جاؤ کیونکہ آپ کی امت کو اس کی استطاعت نہیں ہے میں واپس گیا تو اللہ تعالیٰ نے آدھی معاف فرمادیں پھر موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس واپس گیا اور ان کو خبر دیں تو انھوں نے فرمایا اپنے رب سے اور مراجعت کرو کیونکہ آپ کی امت یہ بھی ادانہ کرسکے گی میں نے رب تعالیٰ سے دوبارہ درخواست کی تو فرمایا یہ پانچ نمازیں ہیں اور ثواب میں پچاس کے برابر میرے پاس میں قول تبدیل نہ ہوتا میں واپس موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس پہنچاتو انھوں نے اور کمی کی درخواست کے لیے فرمایا تو میں نے کہا کہ اب مجھے رب تعالیٰ سے شرم آرہی ہے پھر مجھے لے کر سدرة المنتہیٰ پہنچا جس کو مختلف رنگ ڈھانپ رہے تھے مجھے معلوم نہیں کیسے عجیب و غریب رنگ تھے مجھے جنت لے جایا گیا۔ اور اس کی مٹی مشک کی تھی ۔ (بیہقی بروایت ابی ذ(رض) مگر یہ الفاظ ابن عباس اور ابی حبہ بدری کی ہے کہ پھر مجھے کشادہ صحن میں لے جایا گیا جہاں مجھے قلم چنے کی آواز سنائی دے رہی تھی)

پڑھنے کی ترتیبات

Urdu

System

عربی فونٹ منتخب کریں

Kfgq Hafs

ترجمہ فونٹ منتخب کریں

Noori_nastaleeq

22
17

عام ترتیبات

عربی دکھائیں

ترجمہ دکھائیں

حوالہ دکھائیں

حدیث دو حصوں میں دیکھیں


صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔

Kanz al-Ummal

كنز العمال

Kanz al-Ummal

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔
Kanz al-Ummal: 31850 | undefined - Hadith.one