HADITH.One

Urdu

Support
hadith book logo

HADITH.One

Urdu

System

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔
hadith book logo

Kanz al-Ummal

.

كنز العمال

31851

31840- أتيت بالبراق وهو دابة أبيض طويل فوق الحمار ودون البغل يضع حافره عند منتهى طرفه فركبته حتى أتيت بيت المقدس فربطته بالحلقة التي يربط بها الأنبياء ثم دخلت المسجد فصليت فيه ركعتين ثم خرجت، فجاءني جبريل بإناء من خمر وإناء من لبن فاخترت اللبن فقال جبريل: اخترت الفطرة، ثم عرج بنا إلى السماء الدنيا فاستفتح جبريل فقيل: من أنت؟ قال: جبريل، قيل: ومن معك؟ قال: محمد، قيل: وقد بعث إليه؟ قال: قد بعث إليه، ففتح لنا فإذا أنا بآدم فرحب بي ودعا لي بخير، ثم عرج بنا إلى السماء الثانية فاستفتح جبريل فقيل: من أنت؟ قال: جبريل، قيل: ومن معك؟ قال: محمد، قيل: وقد بعث إليه؟ قال: قد بعث إليه ففتح لنا فإذا بابني الخالة عيسى ابن مريم ويحيى بن زكريا فرحبا بي ودعوا لي بخير، ثم عرج بنا إلى السماء الثالثة فاستفتح جبريل فقيل: من أنت؟ قال: جبريل، قيل: ومن معك؟ قال: محمد، قيل: وقد بعث إليه؟ قال: قد بعث إليه، ففتح لنا فإذا أنا بيوسف وإذا هو قد أعطي شطر الحسن فرحب بي ودعا لي بخير، ثم عرج بنا إلى السماء الرابعة فاستفتح جبريل قيل: من هذا؟ قال: جبريل، قيل: ومن معك؟ قال: محمد، قيل: قد بعث إليه؟ قال: قد بعث إليه، ففتح لنا فإذا أنا بإدريس فرحب بي ودعا لي بخير، قال الله تعالى {وَرَفَعْنَاهُ مَكَاناً عَلِيّاً} ، ثم عرج بنا إلى السماء الخامسة فاستفتح جبريل فقيل: من هذا؟ قال: جبريل، ومن معك؟ قال: محمد، قيل: وقد بعث إليه؟ قال: قد بعث إليه، ففتح لنا فإذا أنا بهارون فرحب ودعا لي بخير، ثم عرج بنا إلى السماء السادسة فاستفتح جبريل فقيل: من هذا؟ قال: جبريل، قيل: ومن معك؟ قال: محمد، قيل: وقد بعث إليه؟ قال: قد بعث إليه، ففتح لنا فإذا أنا بموسى فرحب بي ودعا لي بخير، ثم عرج بنا إلى السماء السابعة فاستفتح جبريل فقيل: من هذا قال: جبريل، قيل: ومن معك؟ قال: محمد، قيل: وقد بعث إليه؟ قال: قد بعث إليه، ففتح لنا فإذا بإبراهيم مسندا ظهره إلى البيت المعمور وإذا هو يدخله كل يوم سبعون ألف ملك لا يعودون إليه، ثم ذهب بي إلى سدرة المنتهى وإذا ورقها كآذان الفيلة وإذا ثمرها كالقلال فلما غشيها من أمر الله ما غشي تغيرت فما أحد من خلق الله يستطيع أن ينعتها من حسنها فأوحى الله إلي ما أوحى ففرض علي خمسين صلاة في كل يوم وليلة، فنزلت إلى موسى فقال: ما فرض ربك على أمتك! قلت: خمسين صلاة في كل يوم وليلة، قال: ارجع إلى ربك فاسأله التخفيف، فإن أمتك لا تطيق ذلك، فإني قد بلوت بني إسرائيل وخبرتهم. فرجعت إلى ربي فقلت: يا رب خفف عن أمتي، فحط عني خمسا فرجعت إلى موسى فقلت: حط عني خمسا، قال: إن أمتك لا يطيقون ذلك فارجع إلى ربك فاسأله التخفيف، فلم أزل أرجع بين ربي وبين موسى حتى قال: يا محمد! إنهن خمس صلوات كل يوم وليلة لكل صلاة عشر فذلك خمسون صلاة، ومن هم بحسنة فلم يعملها كتبت له حسنة فإن عملها كتبت له عشرا، ومن هم بسيئة فلم يعملها لم تكتب شيئا فإن عملها كتبت سيئة واحدة، فنزلت حتى انتهيت إلى موسى فأخبرته فقال: ارجع إلى ربك فاسأله التخفيف فقلت: قد رجعت إلى ربي حتى استحييت منه. "حم، عن أنس"
31843 ۔۔۔ ارشاد فرمایا پاس براق لایا گیا وہ ایک سفید طویل جانور ہے جو گدھے سے تھوڑا بڑا اور خچر سے تھوڑا چھوٹا منتہیٰ نظر پر قدم رکھتا ہے میں اس پر سوار ہو کر بیت المقدس تک آیا اور اس کو اس حلقہ میں باندھ دیا جس سے انبیاء (علیہم السلام) اپنی سواریوں کو باندھا کرتے تھے پھر میں مسجد میں داخل ہواوہاں دو رکعت نماز پڑھی پھر جبرائیل (علیہ السلام) ایک برتن شراب کا اور ایک برتن دودھ کا لائے میں نے دودھ کا انتخاب کیا توجبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا کہ آپ نے فطرت کو اختیار کیا پھر مجھے آسمان پر لیجایا گیا تو دروازہ کھلوانا چاہا تودربان نے جبرائیل پوچھا آپ کے ساتھ کون ؟ کہا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پوچھا کیا ان کو بلوایا ہے ؟ کہا ہاں بلوایا ہے ہمارے لیے دروازہ کھولا گیا تو آدم (علیہ السلام) سے ملاقات ہوئی انھوں نے مرحبا کہا اور خیر کی دعا دی پھر مجھے دوسرے آسمان پر لے جایا گیا جبرائیل (علیہ السلام) نے دروازہ کھلواتا جاہا کہا کون ؟ جواب دیاجبرائیل پوچھا گیا آپ کے ساتھ کون ہے ؟ کہا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پوچھا گیا کہ ان کو بلوایا ہے کہاں ہاں بلوایا ہمارے لیے دروازہ کھولا گیا تو ہمارے ملاقات دوخالہ زاد بھائی عیسیٰ بن مریم اور یحیی بن زکریا (علیہ السلام) سے ہوئی انھوں نے مجھے مرحباکہا اور میرے لیے خیر کی دعا کی پھر مجھے تیسرے آسمان پرلے جایا گیا جبرائیل (علیہ السلام) نے دروازہ کھلوایا تو پوچھا گیا کون ؟ بتایا جبرائیل (علیہ السلام) پوچھا گیا ساتھ کون ہے ؟ بتایا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پوچھا کہ ان کو بلوایا ہے بتایا ہاں تو ہمارے لیے دروازہ کھولا گیا تو ہماری ملاقات ادریس (علیہ السلام) سے ہوئی انھوں نے مجھے مرحباکہا اور میرے لیے خیر کی دعا کی :۔
قال اللہ تعالیٰ ورفعا مکانا علیا
” ہم نے انھیں رفعت دے کر ایک بلند مقام تک پہنچا دیا تھا۔ “
پھر مجھے پانچویں آسمان پر لے گیا جبرائیل نے دروازہ کھلوایا پوچھا گیا کون ؟ بتایا جبرائیل (علیہ السلام) پوچھا ساتھ کون ؟ بتایا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پوچھا گیا ان کو بلوایا گیا ہے ؟ جواب دیا ہاں پھر ہمارے لیے دروازہ کھولا گیا تو ہماری ملاقات ہارون (علیہ السلام) سے ہوئی انھوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لیے خیر کی دعا کی پھر مجھے چھٹے آسمان پر لیجایا گیا جبرائیل (علیہ السلام) نے دروازہ کھلوایا پوچھا کون ؟ جواب دیا جبرائیل (علیہ السلام) پوچھا ساتھ کون ؟ جواب دیامحمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو ہماری ملاقات موسیٰ (علیہ السلام) سے ہوئی انھوں نے مجھے مرحباکہا اور میرے لیے خیر کی دعا کی پھر مجھے ساتویں آسمان پر لیجایا گیا جبرائیل (علیہ السلام) نے دروازہ کھلوایا تو پوچھا گیا کون ؟ جواب دیا جبرائیل پوچھا کہ ساتھ کون ؟ جواب دیا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پوچھا ان کو بلوایا گیا ہے ؟ جواب دیاہاں تو ہمارے دروازکھولا گیا تو ہماری ملاقات ابراہیم (علیہ السلام) سے ہوئی وہ بیعت المعمور سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے وہ ایساگھر ہے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں ان کو دوبارہ داخل ہونے کا موقع نہیں ملتاپھر مجھے سدرة المنتہیٰ تک لیجایا گیا تو اس کے لیے ہاتھی کے کان کے برابر پتے تھے اور اس کا پھل مٹکے کے برابر جب اللہ کے حکم سے اس کو ڈھانپا گیا جس طرح ڈھانپا گیا تو اس میں اس طرح حسن پیدا ہوگیا کہ اللہ کے مخلوق میں سے کوئی اس کے حسن کو بیان کرنے پر قادر نہیں اللہ تعالیٰ نے جو وحی فرمانا تھی فرمائی اور میرے اوپر دن رات میں پچاس نمازیں فرض فرمائیں۔ میں واپسی میں موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آیا انھوں نے مجھ سے پوچھا آپ کے رب نے آپ کی امت پر کیا فرض فرمایا ؟ میں نے بتایا دن رات میں پچاس نمازیں تو فرمایا واپس جاکر اس میں تخفیف کی درخواست کریں کیونکہ آپ کی امت کو اس کی طاقت نہ ہوگی میں نے نبی اسرائیل کو آزمایا ہے اور امتحان لیا ہے میں نے واپس جاکر رب تعالیٰ سے تخفیف کی درخواست کی تو پانچ نمازیں معاف کیں میں موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس واپس آیا اور بتایا پانچ معاف ہوئی ہیں تو فرمایا واپس جاکر تخفیف کی درخواست کریں آپ کی امت یہ بھی نہیں ادا کرسکے گی اب میں رب تعاٰلی اور موسیٰ کے درمیان مراجعت کرتا رہا یہاں تک اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے محمد یہ دن اور رات میں پانچ نمازیں ہیں ہر نماز پر دس اس طرح ثواب میں پچاس کے برابر ہوں گی جس نے نیکی کا ارادہ کیا اور عمل نہیں کیا اس کو بھی ثواب ملے اگر عمل کرلیا تودس نیکیاں ملیں گی جس نے برائی کا ارادہ کیا اور عمل نہیں کیا اس کے حق میں کچھ نہیں لکھا جائے گا اگر عمل کرلیا تو اس کے حق میں ایک ہی گناہ لکھاجائے گا میں واپس آکر موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس پہنچا اور ان کو واقعہ بتایا تو انھوں نے دوبارہ فرمایا کہ جاکرمزید تخفیف کی درخواست کریں میں نے کہا اب بہت ہوگیا مزید جانے سے مجھے شرم آرہی ہے۔ (احمدبروایت انس (رض))

پڑھنے کی ترتیبات

Urdu

System

عربی فونٹ منتخب کریں

Kfgq Hafs

ترجمہ فونٹ منتخب کریں

Noori_nastaleeq

22
17

عام ترتیبات

عربی دکھائیں

ترجمہ دکھائیں

حوالہ دکھائیں

حدیث دو حصوں میں دیکھیں


صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔

Kanz al-Ummal

كنز العمال

Kanz al-Ummal

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔
Kanz al-Ummal: 31851 | undefined - Hadith.one