HADITH.One

Urdu

Support
hadith book logo

HADITH.One

Urdu

System

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔
hadith book logo

Kanz al-Ummal

.

كنز العمال

31853

31842- بينما أنا في الحطيم مضجعا إذ أتاني آت فقد 1 ما بين هذه إلى هذه فاستخرج قلبي ثم أتيت بطست من ذهب مملوءة إيمانا فغسل قلبي بماء زمزم ثم حشي ثم أعيد، ثم أتيت بدابة دون البغل وفوق الحمار أبيض يقال له البراق يضع خطوة عند أقصى طرفه فحملت عليه فانطلق بي جبريل حتى أتى السماء الدنيا فاستفتح فقيل: من هذا؟ قال: جبريل، قال: ومن معك؟ قال محمد، قيل: وقد أرسل إليه؟ قال: نعم، قيل: مرحبا به فنعم المجيء جاء! ففتح فلما خلصت فإذا فيها آدم فقال: هذا أبوك آدم فسلم عليه، فسلمت عليه فرد السلام ثم قال: مرحبا بالابن الصالح والنبي الصالح، ثم صعد حتى أتى السماء الثانية فاستفتح فقيل: من هذا؟ قال: جبريل، قيل: ومن معك؟ قال: محمد، قيل: وقد أرسل إليه؟ قال: نعم، قيل: مرحبا به فنعم المجيء جاء! ففتح فلما خلصت فإذا يحيى وعيسى! وهما ابنا الخالة، قال: هذا يحيى وعيسى فسلم عليهما، فسلمت فردا ثم قالا: مرحبا بالأخ الصالح والنبي الصالح! ثم صعد بي إلى السماء الثالثة فاستفتح قيل: من هذا قال: جبريل، قيل: ومن معك؟ قال: محمد، قيل: وقد أرسل إليه؟ قال: نعم، قيل: مرحبا به فنعم المجيء جاء! ففتح، فلما خلصت إذا يوسف! قال: هذا يوسف فسلم عليه، فسلمت عليه فرد ثم قال: مرحبا بالأخ الصالح والنبي الصالح! ثم صعد بي حتى أتى السماء الرابعة فاستفتح قيل: من هذا؟ قال جبريل، قيل ومن معك؟ قال: محمد، قيل: أو قد أرسل إليه؟ قال: نعم، قيل: مرحبا به فنعم المجيء جاء! ففتح، فلما خلصت وإذا إدريس، قال: هذا إدريس فسلم عليه، فسلمت فرد ثم قال: مرحبا بالأخ الصالح والنبي الصالح! ثم صعد بي حتى أتى السماء الخامسة فاستفتح قيل: من هذا؟ قال: جبريل، قيل: ومن معك؟ قال: محمد، قيل وقد أرسل إليه؟ قال: نعم، قيل: مرحبا به فنعم المجيء جاء! ففتح فلما خلصت فإذا هارون، قال: هذا هارون فسلم عليه، فسلمت عليه، فرد ثم قال: مرحبا بالأخ الصالح والنبي الصالح ثم صعد بي حتى أتى السماء السادسة فاستفتح قيل: من هذا؟ قال: جبريل، قيل: ومن معك؟ قال: محمد، قيل: وقد أرسل إليه؟ قال: نعم، قيل: مرحبا به فنعم المجيء جاء! ففتح فلما خلصت فإذا موسى! قال: هذا موسى فسلم عليه، فسلمت عليه فرد ثم قال: مرحبا بالأخ الصالح والنبي الصالح! فلما تجاوزت بكى، قيل له: ما يبكيك؟ قال: أبكي لأن غلاما بعث بعدي يدخل الجنة من أمته أكثر من أمتي؛ ثم صعد بي إلى السماء السابعة فاستفتح جبريل قيل: من هذا؟ قال: جبريل، قيل: ومن معك؟ قال؛ محمد، قيل: وقد بعث إليه؟ قال: نعم، قيل: مرحبا به فنعم المجيء جاء ففتح فلما خلصت فإذا إبراهيم! قال: هذا أبوك: فسلم عليه، فسلمت عليه فرد السلام فقال: مرحبا بالابن الصالح والنبي الصالح! ثم رفعت إلى سدرة المنتهى فإذا نبقها مثل قلال هجر وإذا ورقها مثل آذان الفيلة! قال: هذه سدرة المنتهى، وإذا أربعة أنهار: نهران باطنان ونهران ظاهران: قلت: ما هذان يا جبريل؟ قال: أما الباطنان فنهران في الجنة، وأما الظاهران فالنيل والفرات، ثم رفع لي البيت المعمور فقلت: يا جبريل ما هذا؟ قال: هذا البيت المعمور يدخله كل يوم سبعون ألف ملك إذا خرجوا منه لم يعودوا إليه آخر ما عليهم، ثم أتيت بإناء من خمر وإناء من لبن وإناء من عسل فأخذت اللبن فقال: هي الفطرة التي أنت عليها وأمتك، ثم فرضت علي الصلاة خمسون صلاة كل يوم، فرجعت فمررت على موسى فقال: بم أمرت! فقلت أمرت بخمسين صلاة كل يوم، قال: إن أمتك لا تستطيع خمسين صلاة كل يوم وإني والله قد جربت الناس قبلك وعالجت بني إسرائيل أشد المعالجة فارجع إلى ربك فاسأله التخفيف لأمتك، فرجعت فوضع عني عشرا، فرجعت إلى موسى فقال مثله فرجعت فوضع عني عشرا، فرجعت إلى موسى فقال مثله فرجعت فوضع عني عشرا فرجعت إلى موسى فقال مثله فرجعت فأمرت بخمس صلوات كل يوم، فرجعت إلى موسى فقال: بم أمرت؟ قلت: أمرت بخمس صلوات كل يوم قال: إن أمتك لا تستطيع خمس صلوات كل يوم وإني قد جربت الناس قبلك وعالجت بني إسرائيل أشد المعالجة فارجع إلى ربك فاسأله التخفيف لأمتك، قلت: سألت ربي حتى استحييت ولكن أرضى وأسلم، فلما جاوزت ناداني مناد فأمضيت فريضتي وخففت عن عبادي. "حم، ق ، ن - عن مالك ابن صعصعة".
31845 ۔۔۔ ارشاد فرمایا کہ اس دوران کے میں حطیم میں لٹیا ہوا تھا کہ ایک آنے والا آیا اور مجھے طولا چیرا اور میرے دل کو نکالا پھر میرے پاس سونے کی ایک تھالی لائی گئی جو ایمان سے بھری ہوئی تھی میرے دل کو زمزم کے پانی سے دھویا پھر بھر دیا اور اس کو اپنی حالت میں لوٹا دیا پھر میرے پاس ایک سواری لائی گئی جو خچر سے چھوٹی اور گدھے سے بڑی تھی سفید رنگ اس کو براق کہا جاتا ہے اور منتہائے نظر پر قدم رکھتی تھی۔ میں اس پر سوار کرایا گیا مجھے جبرائیل (علیہ السلام) لے چلے یہاں تک آسمان دنیا پر لے جایا گیا جبرائیل (علیہ السلام) نے دروازہ کھلوایا تو پوچھا گیا کون ؟ بتایا جبرائیل (علیہ السلام) پوچھا گیا آپ کے ساتھ کون ؟ بتایا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پوچھا گیا کہ ان کو بلوایا گیا ہے ؟ بتایا ہاں پھر کہاں مرحباکتنے اچھے مہمان ہیں پھر دروازہ کھولا گیا جب میں آگے بڑھا تو آدم (علیہ السلام) سے ملاقات ہوئی تو جبرائیل (علیہ السلام) نے بتایا یہ تمہارے باپ آدم ہیں میں نے ان کو سلام کیا انھوں نے کہا مرحبا اے صالح بیٹے صالح بنی پھر مجھے دوسرے آسمان پرلے جایا گیا دروازہ کھلوایا تو پوچھا کون بتایا جبرائیل (علیہ السلام) پوچھا ساتھ کون ؟ بتایا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پوچھا ان کو بلوایا گیا ہے ؟ بتایا تو کہا گیا مرحبا کتنے اچھا مہمان ہیں جب دروازہ کھولا گیا تویحیی اور عیسٰی (علیہم السلام) دونوں خالہ زاد بھائیوں سے ملاقات ہوئی جبرائیل نے کہا یہ یحییٰ اور عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں ان کو سلام کریں میں نے سلام کیا دونوں نے سلام کا جواب دیا پھر کہا مرحبا صالح بھائی صالح بنی پھر مجھے تیرے آسمان پر لے جایا گیا دروازہ کھلوایا پوچھا کون ؟ بتایا جبرائیل (علیہ السلام) پوچھا ساتھ کون بتایا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پوچھا ان کو بلوایا گیا ہے بتایا ہاں تو کہا گیا مرحبا کتنے اچھے مہمان میں پھر دروازہ کھولا گیا جب داخل ہوا تو یوسف (علیہ السلام) سے ملاقات ہوئی، کہا یہ یوسف (علیہ السلام) میں ان کو سلام کرو میں نے سلام کیا انھوں نے سلام کا جواب دیا پھر فرمایا مرحبا صالح بھائی صالح نبی ، پھر مجھے اوپر لے جایا گیا یہاں تک چھو تھے آسمان پر پہنچا دروازہ کھلوایا پوچھا کون ؟ بتایا جبرائیل پوچھا ساتھ کون بتایا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پوچھا کیا ان کو بلوایا گیا جواب دیا ہاں کہا گیا کتنے اچھے مہمان ہیں پھر دروازہ کھولا گیا جب میں داخل ہوادریس (علیہ السلام) سے ملاقات ہوئی کہا یہ ادریس (علیہ السلام) ہیں ان کو سلام کریں میں نے سلام کیا انھوں نے سلام کا جواب دیاپھرکہا مرحبا صالح بھائی صالح نبی پھر مجھے پانچیں آسمان پر لے جایا گیا دروازہ کھلوایا پوچھا کون بتایا جبرائیل پوچھا ساتھ کون ؟ بتایا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پوچھا ان کو بلوا گیا ہے ؟ بتایا ہاں تو کہا گیا کہ کتنے اچھے مہمان ہیں پھر دروازہ کھولا گیا جب میں داخل ہوا تو ہارون (علیہ السلام) سامنے موجود تھے کہا یہ ہارون (علیہ السلام) ہیں ان کو سلام کریں میں نے سلام کیا تو فرمایا مرحبا صالح بھائی صالح بنی پھر مجھے چھٹے آسمان پر لے جایا گیا دروازہ کھوایا پوچھا کون بتایا جبرائیل پوچھا سان کون بتایا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پوچھا کہ ان کو بلوایا گیا ہے بتایا ہاں تو کہاں کتنے اچھے مہمان ہیں پھر دروازہ کھولاتو سامنے موسیٰ (علیہ السلام) تشریف فرما تھے کہا کہ یہ موسیٰ (علیہ السلام) ہیں سلام کریں میں نے سلام کیا انھوں نے جواب دیاتوکہا مرحبا صالح بھائی صالح نبی جب میں آگے بڑھا توروپڑے رونے کی کیا وجہ ؟ فرمایا ایک جواب جو میرے بعد مبعوث ہوئے ان کی امت کے لوگ میری امت سے زیادہ تعداد میں جنت میں داخل ہوں گے پھر مجھے ساتویں آسمان پرلے جایا گیا دروازہ کھلوایا ، پوچھا کون بتایا جبرائیل پوچھا ساتھ کون ؟ بتایامحمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پوچھا ان کو بلوایا گیا ہے ؟ بتایا ہاں کہا کتنے اچھے مہمان ہیں پھر دروازہ کھلوایا گیا جب میں داخل ہوا تو ابراہیم (علیہ السلام) موجود تھے کہا کہ یہ تمہارے والد ابراہیم ہیں ان کو سلام کریں میں نے سلام کیا انھوں نے سلام کا جواب دیا اور کہا مرحبا صالح بیٹا صالح نبی مجھے سدرة المنتہی تک لے جایا گیا تو اس کے پھل مقام ہجر کے مٹکے کے برابر تھے اس کے پتے ہاتھی کے کان کے برابر کہا کہ یہ سدرة المنتہی ہے وہاں چار نہریں جاری تھیں دوباطنی نہریں اور ظاہری میں نے پوچھا جبرائیل یہ کیا ہیں ؟ بتایا یہ جو باطنی نہریں جنت کی نہریں ہیں اور ظاہری نہریں نیل اور فرات ہیں پھر مجھے بیت المعمور تک لے جایا گیا میں نے پوچھا جبرائیل یہ کیا ہے ؟ بتایا بیت المعمور ہے جس میں روزانہ ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں جب نکلتے ہیں قیامت تک ان کی دوبارہ باری نہیں آتی پھر میرے پاس ایک پیالہ شراب کا اؤ ایک پیالہ دودھ اور ایک پیالہ شہد کا لایا گیا میننے دودھ کاپیالہ لے لیا تو فرمایا یہ فطرت کے مطابق ہے جس پر آپ اور آپ کی امت ہیں پھر میرے اوپر ہر روز کے پچاس نمازیں فرض ہوئیں واپسی پر موسیٰ (علیہ السلام) پر گذرہوا تو انھوں نے پوچھا کیا حکم ملا میں نے کہا ہر روز کی پچاس نمازیں تو فرمایا آپ کی امت ہر روز بچ اس نمازیں نہیں اداکرپائے گی واللہ میں آپ سے پہلے لوگوں کو آزما چکاہوں اور نبی اسرائیل کا خوب امتحان لیا لھذا اپنے رب کے پاس واپس جاکر تخفیف کی درخواست کریں میں واپس گیا تودس نمازیں ساقط فرمادیں میں واپس موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آیا تو انھوں نے دوبارہ اس طرح کہا میں نے اللہ تعالیٰ سے دوبارہ درخواست کی تودس اور معاف کردیں پھر موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آیا دوبارہ اس طرح فرمایا پھر یومیہ پانچ نمازوں کا حکم ملا پھر موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس سے گذر ہواتوپوچھا کیا حکم ملا ؟ میں نے کہا یومیہ پانچ نمازیں انھوں نے فرمایا آپ کی امت یہ بھی ادا نہیں کرسکے گی میں نے آپ سے پہلے لوگوں کو آزمایا ہے نبی اسرائیل کا خوب اچھی طرح امتحان لیا اپنے رب سے اپنی امت کے لیے تخفیف کی درخواست کریں میں نے کہا میں رب تعالیٰ سے بار بار درخواست کر چکاہوں اب شرم آرہی ہے اس پر راضی ہوں اور تسلیم کرتا ہوں جب آگے بڑھا تو آواز دی میں نے اپنا فریضہ ادا کردیا اور اپنے بندوں پر تخفیف کردی۔ (احمد بیہقی نسائی بروایت مالک بن صعصعہ)

پڑھنے کی ترتیبات

Urdu

System

عربی فونٹ منتخب کریں

Kfgq Hafs

ترجمہ فونٹ منتخب کریں

Noori_nastaleeq

22
17

عام ترتیبات

عربی دکھائیں

ترجمہ دکھائیں

حوالہ دکھائیں

حدیث دو حصوں میں دیکھیں


صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔

Kanz al-Ummal

كنز العمال

Kanz al-Ummal

صدقہ جاریہ میں حصہ لیں

ہمیں ایک جدید، بغیر اشتہارات کے اسلامی ایپ فراہم کرنے میں مدد کریں۔ آپ کا عطیہ صدقہ جاریہ کے طور پر شمار ہوگا، ان شاء اللہ۔

عطیہ کریں۔
Kanz al-Ummal: 31853 | undefined - Hadith.one